بنگلورو۔9/ستمبر(سیاست نیوز) دہلی ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کے نتیجہ میں وہاں کی عام آدمی پارٹی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 21/ پارلیمانی سکریٹریوں کے عہدوں کو کالعدم قرار دے دئے جانے کے بعد ریاست میں وزیر اعلیٰ سدرامیا کے پارلیمانی سکریٹریوں کا مستقبل معلق نظر آنے لگا ہے۔ دہلی میں لفٹینٹ گورنر نجیب جنگ کی اجازت کے بغیر وزیراعلیٰ کیجروال نے اپنی پارٹی کے 21/اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری کے عہدے دے دئے تھے، دہلی ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان تقررات کو باطل قرار دے دیا۔ وزیراعلیٰ سدرامیا نے پچھلے دیڑھ سال سے اپنے لئے ایک درجن سے زائد پارلیمانی سکریٹریز مقرر کرلئے ہیں۔ دو دن قبل ہی چکوڈی کے رکن پارلیمان پرکاش ہوکیری کے فرزند گنیش ہوکیری کو محکمہئ مالگذاری کیلئے پارلیمانی سکریٹری کے طور پر حلف دلایا گیا تھا، دہلی ہائی کورٹ کے تازہ فیصلے کی بنیاد پر ریاست میں بھی پارلیمانی سکریٹریوں کے تقرر کو اگر عدالتوں میں چیلنج کردیاگیاتو ہوسکتا ہے کہ کرناٹک میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو۔ ریاستی وزارت سے محروم اراکین اسمبلی کو مطمئن کرنے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے پارلیمانی سکریٹریوں کے طور پر مقرر کرنے کا سلسلہ شروع کیاتھا، تاہم دہلی کی صورتحال کے بعد اب ان عہدوں کا بھی مستقل رہنا مشکوک نظر آرہا ہے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا اپنے پارلیمانی سکریٹریوں کے تقرر کیلئے ماہرین قانون سے مشورہ کے بعد گورنر کی اجازت بھی لے سکتے ہیں۔تاکہ عدالتوں میں ان تقررات کا چیلنج نہ کیاجاسکے۔